ایک فاضل مدرسہ کی دردناک داستان


 😢

ایک فاضل مدرسہ کی دردناک داستان


مدرسے سے فراغت سے پہلے یہی سنتے رہے کہ باہر نکل کر امامت  خطابت کرنی ہے،  تدریس کرنی ہے باہر نکلے تو دو سال تک مسلسل کوشش کے باجود بھی کہیں پڑھانے کے لئے جگہ نہ ملی، اگر کہیں جگہ ملتی بھی تو ایک ہزار قسم کی شرائط اور تنخواہ باورچی سے بھی کم ـ

جب مجبور ہوکر ایک پینٹ فیکٹری میں 15 ہزار پر نوکری شروع کی تو ساتھیوں اور اساتذہ کو معلوم ہوگیا مدرسہ بلا کر اتنی زیادہ بے عزتی کی کہ رونے پر مجبور کر دیا میرے والد صاحب کو بھی بلا کر بے عزتی کی

استاد صاحب سے عرض کی کہ استاد جی حالات ٹھیک نہیں ہیں دو سال مسلسل تدریس اور امامت ڈھونڈنے پر بھی جگہ نہیں تو انہوں نے مجھے ایک مدرسہ میں تدریس کے لئے بھیج دیا وہاں آٹھ اسباق پڑھانے شروع کئے، رہائش بھی ادھر تھی  10 ذمہ داریاں بھی تھی تنخواہ تھی 6 ہزار روپے اور یہ تنخواہ مجھے 5 ماہ نہیں ملی ہر ماہ یہی بات ہوتی کہ اس بار بجٹ نہیں بنا اگلے ماہ تنخواہ مل جائے گی ـ

ایک بار مہتمم صاحب سے عرض کر دی کہ مولانا 5 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ابھی بہت ضرورت ہے  مجھے رقم چاہئے تو مولانا نے فرمایا کہ یہاں تو سال سال بھی تنخواہیں نہیں ملتی تمہیں استاد صاحب نے یہاں بھیجنے سے پہلے نہیں بتایا تھا کہ تنخواہوں کا مسئلہ ہے

میں نے وہیں مہتمم صاحب سے فرمایا کہ حضرت آپ کے بیٹے اور آپ کی اہلیہ جو کہ مدرسہ میں معلم ہیں ہر ماہ اپنی تنخواہ پابندی سے وصول کرتے ہیں اور آپ کے داماد تو تنخواہ کے ساتھ ایڈوانس بھی لیتے ہیں تب تو بجٹ ہوتا ہےـ

میری اس گستاخی پر مجھے اسی دن مدرسہ سے نکال دیا گیا اور استاد صاحب کو فون کر کے بتایا کہ آپ کا شاگرد بہت زیادہ بدتمیز اور نالائق ہے مزید نہیں برداشت کر سکتاـ

تین سال ہوگئے میری تنخواہ جو 30 ہزار بنتے ہیں وہ مجھے نہیں دئے جب کہ مہتمم صاحب ہر کچھ ماہ بعد عمرہ کے لئے بھی جاتے ہیں، کبھی مالائشیاء، کبھی یورپ بیٹے سمیت چندے کے لئے چکر پابندی سے لگاتے ہیں، ہر سال ایک دو جانور بھی قربان کرتے ہیں، اور 28 سال سے امامت، خطابت، درس حدیث بھی دے رہے ہیں

8،10 بار اپنے پیسے لینے گیا مگر پیسے نہیں ملے الٹا میرے خلاف باتیں بھی کی ـ

اس کے بعد جامعہ کلاتھ سے کٹ پیس کا کام شروع کیا، لیکن مسلسل مالی حالات اور مجبوریوں سے تنگ آکر فیصلہ کر لیا کہ کوئی لاکھ باتیں کرے تو پرواہ نہیں ،اس کے بعد سے اب تک ایک جگہ بریانی کا کام کر رہا ہوں، میرے پاس 12 ملازم ہیں جس میں 8 علماء کرام ہیں میری ترجیح علماء ہوتے ہیں اپنے مدرسے کے میرے پاس 5 عالم ہیں جو کافی ذہین اور قابل تھے مگر کسی کو تدریس کی جگہ نہیں ملی سب کو اچھی تنخواہ، رہائش، اور کھانا پینا بھی سب کچھ اپنی ایک مسجد بھی ہے جہاں تمام نمازیں ترتیب وار پڑھاتے ہیں اور محلے کے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں

یہ بات سمجھ آئی کہ کسی بھی عالم کو ہنر ضرور سیکھنا چاہئے کام آنا چاہے تدریس کے لئے ہر کسی کو جگہ نہیں ملتی چاہے کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں

سب کے پاس موبائل تو ہوتا ہی ہے موبائل پر فضول کام کرنے سے بہتر ہے کوئی سکل سیکھی جائے


(ایک فاضل کی آپ بیتی )

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے