اقوال حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ

 

اقوال حضرت علی ہجویری علیہ الرحمہ

1. کرامت ولی کی صداقت کی علامت ہوتی ہے اور اس کا ظہور جھوٹے انسان سے نہیں ہو سکتا۔*

*2. ایمان و معرفت کی انتہا عشق و محبت ہے اور محبت کی علامت بندگی (عبادت) اللہ و رسول کی اطاعت) ہے۔*

*3. کھانے کے آداب میں سے ہےکہ تنہا نہ کھائے اور جو لوگ مل کر کھائیں وہ ایک دوسرے پر ایثار کریں۔*

*4. مسلسل عبادت سے مقامِ کشف و مشاہدہ ملتا ہے ۔*

*5. غافل امراء ،کاہل (سُست) فقیر اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے ۔*

*6. سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے*
*-1* حکمران جب بے علم ہوں
*2-* علماء جب بے عمل ہوں اور
*3-* فقیر (یعنی مسلمان) جب بےتوکل ہوں۔

*7. رضا کی دو قسمیں ہیں*

*(1)* خدا کا بندے سے راضی ہونا 

*(2)* بندے کا خدا سے راضی ہونا۔

(اقوال زرین کا انسائیکلوپیڈیا ص ۷۶)

*8. دنیا سرائے فساق و فجار (گنہگاروں کا مقام) ہے اور صوفی کا سرمایہ زندگی، محبتِ الٰہی ہے ۔*
(کشف المحجوب مترجم،ص۱۰۴)

*9. بھوک کو بڑا شرف حاصل ہے اور تمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہے اس لیےکہ بھوکے کا دل ذکی (ذہین) ہوتا ہے، طبیعت مہذب ہوتی ہے اور تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص کھانے کے ساتھ ساتھ پانی پینے میں بھی کمی کر دے تو وہ ریاضت میں اپنے آپ کو بہت زیادہ آراستہ کر لیتا ہے ۔*

(کشف المحجوب مترجم ، ص ۵۱۹،)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے