حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ
ولادت و سلسلۂ نسب :
حضرت سیِّدُنا داتا علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی کی ولادتِ با سعادت کم و بیش ۴۰۰ ھ میں غزنی شہر (مشرقی افغانستان) کے محلہ جلّاب میں ہوئی۔
*کچھ عرصے بعد آپ کا خاندان محلہ ہجویر میں منتقل ہوگیا ۔*
آپ کی کُنیت ابوالحسن، نام علی اور لقب داتا گنج بخش ہے، *آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شجرہ نسب اس طرح ہے :’’*
حضرت سیِّد علی بن عثمان بن سیّد علی بن عبدالرحمن بن شاہ شُجاع بن ابوالحسن علی بن حسین اصغر بن سیِّدزید شہید بن حضرت امام حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بن علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ۔
( مقدمہ کشف المحجوب مترجم، ص۸تا۱۱، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
حصولِ علم:
جس دور میں حضرت سیِّدُنا داتا على ہجویرى عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی پیدا ہوئے اُس وقت کئی عالم ،فاضل اور اہلِ دانش غزنى مىں رہتے تھے، گویا غزنى کى فضا میں ہر طرف علم و فکر اور معرفت کا چرچاتھا ، چار سال سے زائد عمر میں آپ نے حروف شناسى کے بعد قرآنِ مجید پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں قرآنى تعلیم مکمل کر لى،
*اس کے بعد رفتہ رفتہ وقت کے مشہور علماء سے عربى، فارسى، حدیث، فقہ،تفسیر، منطق، فلسفہ اور دیگر علوم و فنون حاصل کئے۔*
*آپ کے اساتذہ :
جن اساتذہ سے آپ نے ظاہرى وباطنی علوم حاصل کئے ان میں
حضرت ابوالعباس احمد بن محمد اشقانى،
حضرت ابو القاسم علی بن عبداللہ گرگانى،
حضرت ابوالعباس احمد بن محمد قصاب آملی،
حضرت ابو عبداللہ محمد بن علی داستانی بسطامی،
حضرت ابوسعید فضل اللہ بن محمد مہینی،
حضرت ابو احمد مظفر بن احمد اور حضرت ابو القاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیرى رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
*(کشف المحجوب مترجم،ص ۱۲،وغیرہ)*
*علمی قابلیت :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جواں عمری ہی میں علوم ظاہری کی تکمیل کر چکے تھے، آپ کے علمی مقام کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ
*ایک مرتبہ سلطان محمود غزنوی ( متوفی ۴۲۱ ھ)* کی موجودگی میں حضرت داتا علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کا ایک ہندی فلسفی سے مناظرہ ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی علمی قابلیت سے اس کو ساکت و صامت اور لاجواب کر دیا، حالانکہ اس وقت آپ کی عمر زیادہ نہ تھی کیونکہ اس مناظرے کو سلطان محمود غزنوی کی زندگی کے آخری سال میں بھی فرض کیا جائے تو اس وقت آپ کی عمر مبارک تقریباً 20 سال بنتی ہے ۔
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم ، صفحہ نمبر ۱۲،)
*آپ کى تصنیفات 📚:*
یوں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو علومِ ظاہرى اور باطنى سے بےحد نوازا تھا اور دینِ اسلام کے بہت سے اسرار و رموز عطا فرمائے تھے مگر اس کے علاوہ حصولِ علم کیلئے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جو سفر اختیار کئے اس سے بھی آپ کو بےحد مشاہدات حاصل ہوئے چنانچہ
آپ نے مخلوقِ خدا کی خیر خواہی اور طالبانِ معرفت کى رہنمائى کے لىے چند گراں قدر (قیمتی ) کتابیں تصنیف فرمائیں۔
سب سے پہلی کتاب جو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے 12 سال کی عمر میں لکھی اس کا نام *’’دیوانِ شعر‘‘* ہے۔
یہ دیوان صوفیانہ و عارفانہ اشعار پر مشتمل تھا مگر افسوس ! کسی شخص نے ان سے امانۃً لیا اور خیانت کرتے ہوئے آپ کے نام کی جگہ اپنا نام لکھ کر وہ کتاب اپنی بنا لی۔
اس کے علاوہ بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے کئی کتابیں لکھیں
*مثلاً* منہاج الدین،
بحر القلوب،
کتاب فنا و بقا،
کشف الاسرار،اور کشف المحجوب وغیرہ
*آپ کی کتابوں میں سے صرف کشف المحجوب ہی کو شہرت حاصل ہوئی*
کیونکہ یہی ایک کتاب بآسانی دستیاب ہے ۔
تصوف کے موضوع پر فارسی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب ایک نادر خزانے کے حیثیت رکھتی ہے اور اپنی مثال آپ ہے
یہی وجہ ہے کہ اب تک اُردو کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جاچکا ہے۔
اس کتاب کی ایک ایک بات اپنے اندر تصوف کے حقائق سموئے ہوئے ہے اور سالکینِ طریقت و طالبانِ راہِ ہدایت کے لئے بہترین رہنما ہے۔
*حضرت سیدنا نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس کتاب کی عظمت کے بارے میں فرماتے ہیں:*
’’اگر کسی کا پیر نہ ہو تو وہ اس کتاب کا مطالعہ کرے! اسے پیر مل جائے گا۔
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم، ص ۲۰)
*سلسلۂ طریقت :
حضرت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سلسلہ جنیدیہ میں بیعت ہوئے یہ وہی سلسلہ ہے
جس میں حضور غوث الاعظم محی الدین سیّد ابو محمد عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی بیعت ہوئے تھے۔
*حضرت داتاگنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مرشد گرامی حضرت سیدنا ابوالفضل محمد بن حسن خُتُلى عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی تھے* جو
حضرت شیخ ابو الحسن على حُصرى کے مرید ،
وہ حضرت سیدنا شیخ ابوبکر شبلى کے، وہ
حضرت سیدنا جنید بغدادى کے،
وہ حضرت سیدنا سرى سقطى کے، وہ
حضرت سیدنا معروف کرخی کے، وہ
حضرت سیدنا داؤد طائی کے،
وہ حضرت سیدنا حبیب عجمى کے وہ
*حضرت سیدنا ابوسعید حسن بصرى کے مرید تھے*
(رَحمَۃُ اللّٰہ تعالی علیہم اجمعین)۔
حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی وہ جلیل القدرہستی ہیں جو براہِ راست امیرالمؤمنین ،مولامشکل کُشا حضرت سیدنا على المرتضی شیرخداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے شرف بیعت اور خلافت کی دولت سے مالامال تھے ۔
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم،ص ۱۳)
*حنفی المذہب :
حضرت داتا صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نہ صرف مسلک اہلسنت وجماعت حنفی تھے بلکہ حضرتِ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے خاص عقیدت بھی رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ
انہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب کشف المحجوب میں امام موصوف کا نام نامی اسمِ گرامی نہایت تعظیم کے ساتھ اس طرح تحریر فرمایا:
*’امام اما ماں و مقتدائی سنیاں ، شرفِ فقہاء، عزّ علماء ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الخراز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ‘‘۔*
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم،ص ۱۶)
*ایک خواب کا ذکر :
حضرت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی امام اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت و عقیدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ
آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :
’میں ایک روز سفر کرتا ہوا ملک شام مىں مؤذن رسول حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے روضے پر حاضر ہوا،
وہاں میری آنکھ لگ گئی اور میں نے اپنے آپ کو مکہ معظمہ پایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم قبیلہ بنى شىبہ کے دروازے پر موجود ہیں اور ایک عمر رسیدہ شخص کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اُٹھائے ہوئے ہیں،
میں فرطِ محبت سے بے قرار ہو کر آپ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کى طرف لپکا اور آپ کے مبارک قدموں کو بوسہ دیا،
دل ہی دل میں اس بات پر بڑا حیران بھی تھا کہ
*یہ ضعیف شخص کون ہے ؟*
اتنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم قوتِ باطنى اور علمِ غیب کے ذریعے میری حیرت و استعجاب کی کیفیت جان گئے اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا :
*یہ ابوحنیفہ ہیں اور تمہارے امام ہیں۔*
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم،ص ۱۷)
حضرت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنا یہ خواب بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ
*اس سے مجھے معلوم ہوگیا کہ حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار ان لوگوں میں سے ہے جن کے اوصاف شریعت کے قائم رہنے والے احکام کى طرح قائم و دائم ہیں، یہى وجہ ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم ان سے اس قدر محبت فرماتے ہىں اور آپ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کو جو ان سے محبت ہے اس سے یہ نتپجہ بھی نکلتا ہے کہ جس طرح آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے خطا ممکن نہیں اسى طرح حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بھى خطا کا صدور نہیں ہو سکتا یہ ایک لطیف نکتہ ہے جسے صرف وہى لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تعلق رکھتے ہیں۔*
(کشف المحجوب مترجم،ص ۲۱۶،چشتی)
*حکم مرشد کی حکمت :
حضر تِ داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حصولِ معرفت کى خاطر بے حد ریاضت و عبادت کى حُصولِ علم کی خاطر سفر کی صعوبتیں برداشت کیں،
رضائے الٰہى کے لئے اُونی لباس پہنا، محبتِ الٰہى میں فقر و فاقہ اختیار کیا اور عشقِ حقیقى میں ثابت قدمی کی خاطر مصائب و مشکلات میں صبروضبط سے کام لیا آخرکار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل سے آپ کی معرفت کی تکمیل ہوئی۔
جب آپ کے پیر و مرشد حضرت سیِّدُنا ابوالفضل محمدبن حسن خُتُلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی کی نظرِ ولایت نے دیکھا کہ
میرے مریدِ خاص کے علمِ ظاہری و باطنی سے مخلوق خدا کے فائدہ اٹھانے اور ان کی صحبت سے فیض پانے کا وقت آ گیا ہے *تو آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حکم دیا کہ تم (مرکز الاولیا) لاہور روانہ ہو جاؤ اور وہاں جا کر رُشد و ہدایت کا فریضہ انجام دو ۔*
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم،ص ۵۰،وغیرہ)
اس زمانہ میں غزنى سے لاہور تک کا راستہ کافى دشوار گزار تھا، لہٰذا
آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ مرشدِ کریم سے رخصت ہو کر پہلے اپنے وطن غزنى آئے اور وہاں سے حضرت احمد حمادی کرخی اور حضرت ابو سعید ہجویری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کو ساتھ لے کر تین افراد کے قافلہ کى صورت میں *مرکزالاولیا لاہور* کى طرف چل دیئے اور بڑی مشقتوں سے پہاڑى راستے طے کرتے ہوئے *پہلے پشاور اور پھر غالباً ۴۳۱ ھ بمطابق 1041ء کو مرکزالاولیا لاہور میں آپ کی آمد ہوئی۔*
(تذکرہ اولیائے لاہور، ص۵۷،ادارہ پیغام القرآن)
حضرت سَیّدُنا داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف علم و فضل کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بہت مقرب ولی اور صاحبِ کثیرُالکرامات بھی تھے۔
آئیے تمام اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام اور بالخصوص داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی محبت اپنے دل میں مزید پختہ کرنے کے لئے ان کی دو کرامات ملاحظہ کیجئے۔
*جادوگر کا قبولِ اسلام :
رائے راجو ایک بہت بڑا ہندو جادوگر تھا لوگ اسے اپنے جانوروں کا دودھ دیا کرتے تھے اور اگر کوئی اسے دودھ کا نذرانہ نہ دیتا تو وہ اس کے جانوروں پر ایسا جادو کرتا کہ جانوروں کے تھنوں سے دودھ کے بجائے خون نکلنے لگتا۔
ایک دن ایک بوڑھی عورت رائے راجو کے پاس دودھ لے جا رہی تھی کہ
حضرت سَیِّدُنا داتا علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی نے اسے بلا کر فرمایا کہ
*یہ دودھ مجھے دے دو اور جو اس کی قیمت بنتی ہے وہ لے لو ۔*
اس بوڑھی عورت نے کہا کہ
*ہمیں بہر صورت یہ دودھ رائے راجو کو دینا ہی پڑتا ہے ورنہ ہمارے جانوروں کے تھنوں سے دودھ کے بجائے خون آنے لگتا ہے*
اس پر حضرت داتا صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسکرا کر فرمایا :
اگر تم یہ دودھ مجھے دے دو تو تمہارے جانوروں کا دودھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائےگا۔
یہ سنتے ہی اس عورت نے آپ کو دودھ پیش کر دیا۔
جب وہ اپنے گھر گئی تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ
اس کے جانوروں میں اس قدر دودھ تھا کہ
تمام برتن بھرجانے کے بعد بھی تھنوں سے دودھ ختم نہیں ہو رہا تھا ۔
*جب آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی یہ زندہ کرامت لوگوں میں عام ہوئی تو گرد و نواح سے لوگ دودھ کا نذرانہ لے کر آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔*
ایک طرف تو لوگوں کی عقیدت کا یہ حال تھا اور
*دوسری طرف رائے راجویہ ماجرا دیکھ کر آگ بگولا ہو رہا تھا۔*
آخر کارآپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہیں مقابلے کیلئے للکارتے ہوئے کہنے لگا کہ
*اگر آپ کے پاس کوئی کمال ہے تو دکھائیں ۔*
آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا میں کوئی جادوگر نہیں، میں تو اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہوں، ہاں!
*اگر تمہارے پاس کوئی کمال ہے تو تم دکھاؤ۔*
یہ سنتے ہی وہ اپنے جادو کے زور پر ہوا میں اڑنے لگا۔
*آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ دیکھ کر مسکرائے اور اپنے جوتے ہوا میں اچھال دیئے، جوتے رائے راجو کے ساتھ ساتھ ہوا میں اڑنے لگے۔*
آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی یہ کرامت دیکھ کر رائے راجو بہت متأثر ہوا اور نہ صرف توبہ کرکے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا
بلکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاتھ پر بیعت بھی کی اور آپ کی صحبتِ بابرکت سے فیضیاب ہوا۔
حضرت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے *اس کا نام احمد رکھا اور شیخ ہندی کا خطاب عطا فرمایا۔*
شیخ ہندی کی اولاد اس وقت سے آج تک خانقاہ کی خدمت کے فرائض انجام دیتی آرہی ہے
( تذکرہ اولیائے لاہور،ص۵۹،)
*سمتِ مسجد سے متعلق کرامت :
حضرت داتا صاحب رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے لاہور تشریف لاتے ہی اپنی قیام گاہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرائی ،اس مسجد کی محراب دیگر مساجد کی بہ نسبت جنوب کی طرف کچھ زیادہ مائل تھی ،لہٰذا
مرکزالاولیا لاہور میں رہنے والے اس وقت کے علماء کو اس مسجد کی سمت کے معاملے میں تشویش لاحق ہوئی۔
چنانچہ ایک روز داتا صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تمام علماء کو اس مسجد میں جمع کیا اور خود امامت کے فرائض انجام دیئے،نماز کی ادائیگی کے بعد حاضرین سے فرمایا:’’
*دیکھئے کہ کعبہ شریف کس سمت میں ہے؟‘‘*
یہ کہنا تھا کہ مسجد و کعبہ شریف کے درمیان جتنے حجابات تھے سب کے سب اُٹھ گئے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ
*کعبہ شریف محرابِ مسجد کے عین سامنے نظر آ رہا ہے۔*
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم،ص ۵۶، وغیرہ)
*🌹 داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات*
حضرت سیّدنا داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ چونکہ تصوُّف کے اعلیٰ مرتبے پر فائز عشقِ حقیقی سے سرشار فنا فی اللہ بُزرگ تھے
لہٰذا آپ کی گفتگو کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی ،مسلمانوں کی خیرخواہی اور عقائد و اعمال کی اصلاح سےمتعلق مہکتے پھول نظر آتے ہیں آئیے۔
ان میں سے چند اقوال ملاحظہ کیجئے۔
*1. کرامت ولی کی صداقت کی علامت ہوتی ہے اور اس کا ظہور جھوٹے انسان سے نہیں ہو سکتا۔*
*2. ایمان و معرفت کی انتہا عشق و محبت ہے اور محبت کی علامت بندگی (عبادت) اللہ و رسول کی اطاعت) ہے۔*
*3. کھانے کے آداب میں سے ہےکہ تنہا نہ کھائے اور جو لوگ مل کر کھائیں وہ ایک دوسرے پر ایثار کریں۔*
*4. مسلسل عبادت سے مقامِ کشف و مشاہدہ ملتا ہے ۔*
*5. غافل امراء ،کاہل (سُست) فقیر اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے ۔*
*6. سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے*
*-1* حکمران جب بے علم ہوں
*2-* علماء جب بے عمل ہوں اور
*3-* فقیر (یعنی مسلمان) جب بےتوکل ہوں۔
*7. رضا کی دو قسمیں ہیں*
*(1)* خدا کا بندے سے راضی ہونا
*(2)* بندے کا خدا سے راضی ہونا۔
(اقوال زرین کا انسائیکلوپیڈیا ص ۷۶)
*8. دنیا سرائے فساق و فجار (گنہگاروں کا مقام) ہے اور صوفی کا سرمایہ زندگی، محبتِ الٰہی ہے ۔*
(کشف المحجوب مترجم،ص۱۰۴)
*9. بھوک کو بڑا شرف حاصل ہے اور تمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہے اس لیےکہ بھوکے کا دل ذکی (ذہین) ہوتا ہے، طبیعت مہذب ہوتی ہے اور تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص کھانے کے ساتھ ساتھ پانی پینے میں بھی کمی کر دے تو وہ ریاضت میں اپنے آپ کو بہت زیادہ آراستہ کر لیتا ہے ۔*
(کشف المحجوب مترجم ، ص ۵۱۹،)
*وفات و مدفن :
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصالِ پُرملال اکثر تذکرہ نگاروں کے نزدیک ۲۰صفرالمظفر ۴۶٥ ھ کو ہوا۔
*آپ کا مزار منبعِ انوار و تجلیات مرکزالاولیا لاہور (پاکستان) میں ہے*
اسی مناسبت سے لاہور کو مرکز الالیا اور داتا نگر بھی کہا جاتا ہے
آپ کے وصال کو5تقریباً 900 سال کا طویل عرصہ بیت گیا مگر صدیوں پہلے کی طرح آج بھی آپ کا فیضان جاری ہے اور آپ کا مزارِ فائض الانوار مرجعِ خاص و عام ہے جہاں سخی وگدا، فقیر وبادشاہ، اصفیا واولیااورحالات کے ستائے ہوئے ہزاروں پریشان حال اپنے دکھوں کا مداوا کرنے صبح و شام حاضر ہوتے ہیں۔
*داتا صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے فیضان کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جاسکتا ہےکہ*
معین الاسلام حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نوازمعین الدین سیدحسن چشتی سنجری اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی ایک عرصے تک آپ کے دربار پر مقیم رہے اور منبعِ فیض سے گوہرِ مراد حاصل کرتے رہے اور جب دربار سے رخصت ہونے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں فرمایا ۔
*گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا*
*ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را راہنما*
(مقدمہ کشف المحجوب مترجم،ص ۵۹،وغیرہ)
نوٹ : یہ مضمون کتاب فیضان داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے آمین ۔
(طالبِ دعا)
ڈاکٹر فیض احمد چشتی

0 تبصرے