کورونا ایک سازش یا حقیقت


کورونا ایک سازش یا حقیقت

سال ۲۰۱۹ کے اواخر میں کورونا وبا کے بارے میں خبریں آنی شروع ہوئیں، پھر ۲۰۲۰ میں دنیا نے دیکھا کہ کورونا کوئی عام وبا نہیں بلکہ ایک مہلک اور لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنانے والی جان لیوا بیماری ہے ـ

ابھی ۲۰۲۱ بھی اپنی آدھی عمر گذار چکا ہے اور خاتمے کی طرف گامزن ہے مگر اس وبائی بیماری کے دنیا سے چلے جانے کا کوئی ذہن نہیں ـ شروعات میں صرف کووڈ ۱۹ کا شور تھا بعد میں پہلی لہر پھر دوسری لہر اور اب تیسری لہر کا قہر ہے ـ کتنے ممالک نے اس سے متاثر ہوکر مداوا بھی کر لیا اور کتنے ابھی بھی نبرد آزما ہیں،  اللہ خیرفرمائے،  آمین ـ

اس دوران دلچسپی کی بات یہ ہے کہ لوگوں کا اس تعلق سے مختلف انداز فکر تھا کہ آیا یہ صرف وبا ہی ہے جو منجانب اللہ آئی ہے یا پھر اس میں کوئی سازشانہ فکر بھی شامل ہے ـ

کوئی کہتا ہے کہ یہ ۵ جی ٹیسٹنگ کا نتیجہ ہے تو کوئی اسے دنیا کی آبادی ختم کرنے کا پلان بتاتا ہے، کوئی اسے بل گیٹس سے منسوب کرتا ہے تو کوئی ایک اور پیشین گوئی کی تعبیر بتاتا ہے،  کوئی کہتا ہے یہ وبا اس لیے پھیلائی گئی ہے تاکہ اس کی ویکسین کے بہانے لوگوں کو نامرد بنایا جائے تو کوئی سرے سے انکار کرتا ہے اور کہتا کہ وبا کا کوئی وجود نہیں یہ فقط ایک عالمی سازش ہے، جب کہ بعض حضرات اسے دجال کے آنے کی تیاری کا ایک جز بتاتے ہیں غرض کہ جتنے لوگ اتنی باتیں ـ

حقیقت کیا ہے یہ تو رب ہی جانتا ہے مگر انسان اٹکل پچو لگانے سے کہاں باز آتا ہے اس کی فطرت جو متجسس واقع ہوئی ہے ـ

اس تعلق سے راقم کی رائے یہ ہے کہ اگر چہ یہ ایک سازش کا نتیجہ ہی کیوں نہ ہو حق یہ ہے کہ اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے اور عقل ودانائی سے کام لے کر بہر حال ہمارا رجوع اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ہی طرف ہونا چاہیے ـ

اولا ہمارا نظریہ اس تعلق سے یہ ہونا چاہیے کہ اگر دشمن کی سازش ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ بہتر خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں کئی جگہ وارد ہوا مثلا سورہ آل عمران آیت نمبر54  میں ہے:

" اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے "

اور سورہ نمل آیت نمبر ۵۰ اور ۵۱ میں ہے:

"اور انھوں نے اپنا سا مکر کیا اور ہم نے اپنہ خفیہ تدبیر فرمائی اور وہ غافل رہے تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے ہلاک کر دیا انھیں اور ان کی ساری قوم کو "

دوسری بات یہ ہے قرآنی نظریہ یہ ہے کہ ہم پر جو بھی مصیبت آتی ہے کبھی عام طور پر اس کا سبب ہمارے برے اعمال ہوتے ہیں جب کہ نیکوں پر مصیبت کا سبب ان کی آزمائش اور رفع درجات کا بہانہ ہوتا ہے ـ

ارشاد ربانی ہے:

سورہ روم آیت نمبر 41 میں ہے:

" چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائی تاکہ انھیں ان کے بعض کوتکوں کا مزہ چکھائیں کہیں وہ باز آئیں "


اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے اور جو ہمارے اعزا و اقربا یا بزرگان دین اس وبا میں رخصت ہوئے سب کو شہادت کا مقام عطا فرمائے ـ


محمد محسن مصباحی 

مقیم حال ملاوی سنٹرل افریقا 

بتاریخ 24 جولائی ۲۰۲۱ عیسوی بمطابق ۱۳ ذی الحجہ 1442 ہجری بوقت ظہر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے