علم کے پودے لگائیے




 علم کے پودے لگائیے

امام محمد عبدالرؤف مُناوی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ  لکھتے ہیں:

 ایک بادشاہ شکار کے لئے نکلا تو ا س نے دیکھاکہ ایک  بوڑھاآدمی  زیتون کا پودا لگا رہا ہے۔

بادشاہ نے  اس سے کہا:

اے شخص !تم تو انتہائی بوڑھے ہو جبکہ زیتون کا درخت تیس سال کے بعد پھل دیتا ہے پھر تم  یہ پودا کیوں لگا رہے ہو؟

بوڑھے نے جواب دیا:

بادشاہ سلامت!ہم سے پچھلے لوگوں نے جو درخت لگائے تھے  ان کا پھل ہم نے کھایا،

 اب ہم اپنے بعد والوں کے لئے درخت لگارہے ہیں۔

یہ  جواب سن کر بادشاہ  خوش ہوا اور اس نے کہا:’’زہ‘‘۔

ایران کے بادشاہوں کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی بادشاہ کسی شخص  کے لئے یہ لفظ کہتا تو اس شخص کو  ایک  ہزار دینار ( یعنی سونے کے سکّے)دیے جاتے۔

اس شخص کوایک  ہزار دینار  دے دیے گئے تو اس نے  بادشاہ سے دوبارہ عرض کیا:

بادشاہ سلامت!زیتون کا درخت تیس سال کے بعد پھل دیتا ہے لیکن اس درخت نے تو فی الفور پھل دے دیا۔

بادشاہ نے دوبارہ ’’زہ‘‘ کہا اور بوڑھے کو ہزار دینار مزید د ے دیے گئے۔

بوڑھے نے بادشاہ کی خدمت میں تیسری بار عرض کیا:

بادشاہ سلامت!زیتون کا درخت سال میں ایک مرتبہ پھل دیتا ہے جبکہ اس درخت نے تو ایک ہی وقت میں دو مرتبہ پھل دے  دیا ہے۔

بادشاہ نے پھر’’ زہ‘‘ کہا اور بوڑھے کو تیسری مرتبہ ہزار دینار دیے گئے۔

یہ  منظر  دیکھ کر بادشاہ کے ہمراہی قافلے کو لے کر جلدی  جلدی  وہاں سے روانہ ہوگئے اور کہنے لگے:

اگر ہم اس شخص کے پاس کھڑے رہے تو بادشاہ کا  سارا خزانہ خالی ہوجائے گا۔

(فیض القدیر ج3ص41)  

 ہمارے بزرگوں  نے صدیوں پہلے  علم کے جو پودے لگائے تھے آج تک ہم ان کے پھلوں سے مستفید ہورہے ہیں۔

اب  ہماری  یہ  ذمہ داری ہے کہ اسلاف کے  لگائے ہوئے ان پودوں یعنی ان کی کتابوں  کی  حفاظت اور ا نہیں  عام کرنے کے ساتھ ساتھ علم کے ایسے نئے  پودے  بھی لگائیں جو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں ۔

ایسا  کرنے سے صرف دوسروں کا ہی بھلا نہ ہوگا  بلکہ جس طرح  پودا لگانے والے بوڑھے کو فائدہ حاصل ہوا ،

اسی طرح ان شاء اللہ  اخلاص کے ساتھ علم کی خدمت کرنے والا دنیا میں بھی کسی کا محتاج نہ رہے گا 


ابوالحساب مدنی


المرسل شمس خان منظری

خادم مدرسہ قادریہ نوریہ فرید پور بریلی شریف

۲۶/جولائی ۱۲۰۲؁ء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے