لاکھوں درود اور لاکھوں سلام کا ثواب
لاکھوں سلام اور لاکھوں درود کہنے سے کتنے درود وسلام کا ثواب ملتا ہے
محققِ مسائلِ جدیدہ حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی مدظلہ العالی کے ایک مصدقہ فتوے میں ہے:
سوال:
محض ایک بار ”مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام“ اور ”کعبے کے بدرالدجی تم پہ کروڑوں درود“ کہنے سے حضور سرورِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر لاکھوں سلام اور کروڑوں درود پہنچ جاتا ہے..؟
الجواب:
محض ایک بار ”مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام“ اور ”کعبے کے بدرالدجی تم پہ کروڑوں درود“ کہنے سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر لاکھوں سلام اور کروڑوں درود پہنچ جاتا ہے۔
(فتاوی مرکزِ تربیتِ افتا، ج2، ص349، 351، فقیہ ملت اکیڈمی، الہند)
علامہ ابن حجر ہیتمی مکی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”فرمان مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے: ”جس نے مجھ پر پچاس مرتبہ درود پاک پڑھا میں کل بروزِ قیامت اس سے مصافحہ فرماؤں (یعنی ہاتھ ملاؤں) گا“ حضرت ابو مطرف رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ پچاس مرتبہ پڑھنے کا طریقہ کیا ہے..؟ فرمایا: ”اگر کوئی یوں کہے ”اللھم صل علی محمد خَمْسِیْنَ مَرَّۃ“ یعنی: اے اللہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر پچاس مرتبہ درود بھیج، تو ان شاءالله عزوجل یہ پچاس مرتبہ کے لیے کافی ہوگا، اور اگر ایک ایک کر کے پچاس مرتبہ پڑھے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔“
علامہ ہیتمی رحمۃاللہ تعالى علیہ مزید لکھتے ہیں: ”ان کی اس بات کی تائید اس حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے کہ رحمتِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں دیکھا کہ تسبیح پڑھ رہی ہیں اور کنکریوں کے ذریعے شمار کر رہی ہیں، اس پر نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک کلمہ بتاتا ہوں جو تمہاری پڑھی ہوئی تمام تسبیحات کے برابر ہے، وہ یہ ہے: «سبحان اللہ وبحمده عَدَدَ خَلْقِهِ» یعنی: اللہ عزوجل کی پاکی اور اس کی حمد اتنی تعداد میں جتنی مخلوق ہے“ یہ حدیث پاک اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جس نے یوں کہا: «اللھم صل علی محمد اَلْفَ مَرَّۃٍ» یا یوں کہا: «اللھم صل علی محمد عَدَدَ خَلْقِکَ» یعنی: اے اللہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر ایک ہزار مرتبہ درود بھیج، یا اپنی مخلوق کے برابر درود بھیج، تو اس کے نامہ اعمال میں اس ایک جملے کے بدلے میں ایک ہزار درود پاک یا تمام مخلوق کے برابر درود پاک لکھے جائیں گے۔“
(الدُرُّ المَنضود، ص179، 180، دارالمنھاج)

0 تبصرے