زندگی کے اتار چڑھاؤ
*زندگی میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہیں، عظمت انسان یہ ہے کہ وہ ان زینوں کو کامیابی سے عبور کرے*
میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری مدرسے میں ہوئی ،اس کے بعد اعداد یہ تا ثانیہ کی تعلیم الجامعة الحشمتیة معین العلوم بازار باغ دھانے پور میں ہوئی،اسکے بعد ثالثہ تا رابعہ کی تعلیم دارالعلوم اہلسنت حبیب الرضا بگی روڈ گونڈہ میں ہوئی۔
یہ سن 2007 کی بات جب میں خامسہ جماعت میں تھا،اسی بیچ اچانک والد محترم داغ مفارقت دےگئے۔
*یہ میرے اور اہل خانہ کیلئے بہت بڑا جھٹکا تھا، پورا گھر والد گرامی پرمنحصر تھا،آمدنی کا کہیں سے اور کوئی ذریعہ نہیں تھا، پورا حواس بے بسی میں بدل گیا،بے سکون سا رہنے لگا؛اداسی ،عدم اطمینان، خاموشی اور لوگوں سے الگ تھلگ رہنے کی کیفیت طاری ہوگئی*
لیکن وقت کیساتھ ساتھ موت کا غم اور دکھ کم ہوتا چلا گیا اور پھر رات و دن مستقبل کی فکر ستانے لگی، پھر بھی والد محترم کے کھو جانے کا احساس مکمل طور پر کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔
والد گرامی وقار طاقتور، محنتی اور صاحب عزم انسان تھے۔ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے لوگ بتاتے ہیں تقریباً انھیں 14 زبانیں آتی تھیں۔
والد مرحوم کی خواہش تھی کہ میں عالم دین بنوں اور قوم کی خدمت کروں۔ بعد وفات خامسہ سے آگے کی پڑھائی کیلئے دار العلوم حبیب الرضا بگی روڈ سے دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی چلا گیا ،وہاں سے سن ۲۰۰۹ میں عالمیت کی دستار بندی ہوئی۔
*گھر کی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے میں نے دستار عالمیت میں گھر والوں کو مدعو نہیں کیا ایک طرف جہاں ہمارے دوست خوش و خرم تھے وہیں میں غم سے نڈھال تھا، کس منہ سے گھر والوں کو بلاتا ایک تو میں پہلے سے ہی اپنے آپکو گھر والوں پر بوجھ سمجھتا تھا،اوپر سےکرائے پر گاڑی ارینج کرنا پھر مہمانوں کے کھانے پینے کا انتظام۔۔۔۔ مجھے بالکل پتہ تھا یہ سب قرض لیکر ہی ہوسکتا تھا۔*
بعد فراغت فکر معاش میں محو رہنےلگا،گھر کی ذمہ داریاں قریب آرہی تھیں،ایسا محسوس ہورہا تھا کہ عدالت نے مجرم کی پھانسی کیلئے وقت متعین کردیا ہو۔
وقت بہت کم تھا اسی بیچ کسی کے مشورے پر عربی اور انگلش کی تعلیم کیلئے جامعہ ثقافہ کیرالہ چلا گیا، وہاں کچھ دن رہا،پھر وہاں سے ضلع مئو آگیا اور وہاں ایک کوچنگ سینٹر سے انگلش اور ریاضی کی پڑھائی کرنے لگا اور ساتھ میں جاب کی تیاری کرنے لگا کچھ کے دنوں بعد پھر کوچنگ سینٹر کے ذریعہ ایئر ٹیل کمپنی میں سلیکشن ہوا دہلی کیلئے، پھر دہلی آگیا جاب کےساتھ ساتھ تعلیم کو جاری رکھا B.com# کیا اسکے علاوہ کئی ٹیکنیکل ایجوکیشن کورسز کئے۔۔۔۔۔
*المختصر!* الحمدللہ آج دہلی میں اپنا ریئل اسٹیٹ (پراپرٹی) کاروبار ہے، اسی فیلڈ کا ادنی سا انویسٹر ہوں، ساتھ ہی گاؤں میں ایک خوبصورت شافعہ انٹر کالج ہے،یہ ہے ہمارا مختصر سا سفر۔۔۔۔۔۔
*نوٹ: میری نوجوانوں سے خاص کر فارغین مدارس اسلامیہ سے ایک درخواست ہے کہ وہ حوصلے بلند رکھیں،کبھی ہمت نہ ہاریں۔ زندگی میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ آنے والے کل کےلئے پرُامید رہیں۔ کبھی کوئی کام کرتے ہوئے شرمائیں نہیں، کیوں کہ کام چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا، البتہ کام کے طریقے چھوٹے ،بڑے ضرور ہوتے ہیں۔*
محمد ارشد رضا علیمی

0 تبصرے